ابنا: امريکي صدر باراک اوباما نے عام لوگوں کي زندگيوں کي جاسوسي اور ان کے ٹيلي فوني مکالمے ريکارڈ کئے جانے کے بارے ميں وائٹ ہاؤس ميں نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب ديتے ہوئے کہا کہ اس کاروائي سے امريکي کانگريس کے سبھي ارکان اور اسي طرح خفيہ اداروں کے افراد کو مطلع رکھا گيا ہے-انہوں نے کہا کہ کاروائي کي اجازت بھي سن دوہزار چھے ميں کانگريس کي دوتہائي اکثريت سے حاصل کي گئي تھي –امريکي صدر باراک اوباما نے کہا کہ يہ کاروائي نہ صرف يہ کہ امريکي کانگريس کي مکمل نگراني ميں انجام پارہي ہے بلکہ ايک ايسي عدالت بھي اس پر نظر رکھتي ہے جو خفيہ پروگراموں کا جائزہ ليتي ہے تاکہ اس کو يہ اطمينان حاصل ہوسکے کہ حکومت ان کاروائيوں کا غلط استعمال نہيں کرتي اور قانون کے مطابق قانون کے دائرے ميں رہتے ہوئے ساري کاروائي انجام ديتي ہے –امريکا ميں عام شہريوں کي نجي زندگيوں کي جاسوسي اور ان کے ٹيلي فوني مکالمے ريکارڈ کئے جانے کے اسکينڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد يورپي يونين نے اس بات پر اپني تشويش کا اظہار کيا ہےاور کہا ہے کہ وہ امريکي حکام سے اس سلسلے ميں مزيد وضاحت چاہے گي-......./169
8 جون 2013 - 19:30
News ID: 427823
امريکي صدر نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ ملک کي خفيہ ايجنسيوں نے عام لوگوں کي ذاتي زندگيوں کي جاسوسي کي ہے دعوي کيا ہے کہ دہشتگردي کے خلاف مہم کے پروگراموں کو آگے بڑھانے کے لئے يہ کام سود مند ثابت ہوا ہے -