8 جون 2013 - 19:30
امريکا ميں شہري حقوق کي خلاف ورزي کا اعتراف

امريکي صدر نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ ملک کي خفيہ ايجنسيوں نے عام لوگوں کي ذاتي زندگيوں کي جاسوسي کي ہے دعوي کيا ہے کہ دہشتگردي کے خلاف مہم کے پروگراموں کو آگے بڑھانے کے لئے يہ کام سود مند ثابت ہوا ہے -

ابنا: امريکي صدر باراک اوباما نے عام لوگوں کي زندگيوں کي جاسوسي اور ان کے ٹيلي فوني مکالمے ريکارڈ کئے جانے کے بارے ميں  وائٹ ہاؤس ميں نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب ديتے ہوئے کہا کہ اس کاروائي سے امريکي کانگريس کے سبھي ارکان  اور اسي طرح خفيہ اداروں کے افراد کو مطلع رکھا گيا ہے-انہوں نے کہا کہ کاروائي کي اجازت بھي سن دوہزار چھے  ميں کانگريس کي دوتہائي اکثريت سے حاصل کي گئي تھي –امريکي صدر باراک اوباما نے کہا کہ يہ کاروائي نہ صرف يہ کہ امريکي کانگريس کي مکمل نگراني ميں انجام پارہي ہے بلکہ ايک ايسي عدالت بھي اس پر نظر رکھتي ہے جو خفيہ پروگراموں کا جائزہ ليتي ہے تاکہ اس کو يہ اطمينان حاصل ہوسکے کہ حکومت ان کاروائيوں کا غلط استعمال نہيں کرتي اور قانون کے مطابق قانون کے دائرے ميں رہتے ہوئے ساري کاروائي انجام ديتي ہے –امريکا ميں عام شہريوں کي نجي زندگيوں کي جاسوسي اور ان کے ٹيلي فوني مکالمے ريکارڈ کئے جانے کے اسکينڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد يورپي يونين نے اس بات پر اپني تشويش کا اظہار کيا ہےاور کہا ہے کہ وہ امريکي حکام سے اس سلسلے ميں مزيد وضاحت چاہے گي-......./169